گولڑہ ریلوے اسٹیشن سیکٹر E-13 اسلام آباد
جس کی بنیاد دینی علوم کی حفاظت اور اگلی نسلوں تک دینی علوم کو صحیح نہج پر پہنچانے کی غرض سے سن 2001ء میں رکھی گئی۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اسلام میں دینی تعلیم و تعلم اور قرآن وسنت کی اشاعت اور ترویج کے لئے دینی مدارس اور ان میں اسلامی
تعلیمات کے فروغ کی حیثیت، اہمیت اور فضیلت مسلم ہے۔ دینی تعلیمات اور مدارس کی اس عظمت کی بناء پر
قرونِ اولیٰ سے لے کر آج تک امت مسلمہ کے ہر دور کے لوگ ان مدارس کی آبیاری میں حصہ لیتے رہے۔
برصغیر پاک و ہند پر مسلمانوں نے آٹھ سو سال حکومت کی۔ ان کے دور میں یہ خطہ علم دین کے طلباء اور علماء کرام سے معمور رہا۔ بعد میں انگریز نے یہاں قدم رکھا... اس سازش کا مقصد یہ تھا کہ دینی علوم کی قدر و قیمت مسلمانوں کے دلوں سے نکل جائے۔ اس آزمائش کے وقت علماء کرام نے جرات و ہمت سے فرنگی سازش کا مقابلہ کیا اور اپنی تمام تر صلاحیتیں وقوتیں دینی علوم کی تدریس وترویج کے لئے وقف کردیں۔
آج پاک و ہند میں دینی تعلیم کی جو بھی شکل ہے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان علماء کی کوششوں اور کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ اس وقت انجینئروں اور ڈاکٹروں کی یا کسی اور دنیاوی شعبہ سے متعلق ماہرین فن کی کمی نہیں، اگر کمی ہے تو وہ صرف جید علماء کرام کی ہے۔
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر بڑا احسان فرمایا کہ ان میں انہی کی جنس سے ایک پیغمبر کو بھیجا کہ وہ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتا ہے اور ظاہری وباطنی گندگیوں سے ان کی صفائی کرتا ہے اور ان کو حکمت (حدیث) کی تعلیم دیتا ہے... (سورۃ آل عمران)
قرآن کریم کی اس آیت میں آپ ﷺ کے چار کام بتائے گئے ہیں:
(1)
تلاوت: تلاوت قرآن خود کرنا اور دوسروں کو سکھانا۔
(2) تزکیہ
نفس: کہ انسانوں کا ظاہر و باطن اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہو۔
(3)
تعلیم کتاب: یعنی قرآن کریم کے معانی اور مطالب لوگوں کو سمجھانا۔
(4)
تعلیم حکمت: یعنی ارشادات ربانی سے لوگوں کو دین کے احکامات بتلانا اور ان کی
رہنمائی کرنا۔
آیت میں بتلائے گئے آپ ﷺ کے انہی چار کاموں کی روشنی میں خیرالقرون سے لے کر
آج تک دینی مدارس میں دین کی اشاعت کا کام کیا جارہا ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے، مگر تین چیزوں کے ثواب کا سلسلہ باقی رہتا ہے۔ (1) صدقہ جاریہ۔ (2) علم جس سے نفع حاصل کیا جائے۔ (3) صالح اولاد جو مرنے کے بعد اس کیلئے دعا کرے۔" (مسلم)
حضرت امیر معاویہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "جس شخص کیساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کرتے ہیں اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتے ہیں اور میں (علم) کو تقسیم کرنے والا ہوں، عطا کرنے والا تو خدا ہی ہے۔" (بخاری و مسلم)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص کسی راستہ کو علم دین حاصل کرنے کیلئے اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو بہشت کے راستہ پر چلاتا ہے اور فرشتے طالب علم کی رضامندی کیلئے اپنے پروں کو بچھاتے ہیں..." (ترمذی، ابوداؤد)
حضرت ابو امامہ باہلیؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت اس آدمی پر جو تم میں سے ادنیٰ درجہ کا ہو..." (ترمذی)
جامعہ دارالہدیٰ کے مختلف حصوں کی جھلکیاں
اس وقت جامعہ میں 8 تعلیمی اور رفاہی شعبہ جات کام کر رہے ہیں اور 19 افراد پر مشتمل عملہ خدمات انجام دے رہا ہے۔
اساتذہ کرام
طلبہ و طالبات
مفتیان کرام (فارغ التحصیل)
علماء کرام
حفاظ کرام
شعبہ جات
جامعہ دارالہدیٰ ٹرسٹ کے مالی معاملات کی شفافیت اور سالانہ آڈٹ رپورٹ
جامعہ میں پڑھنے والے تمام طلبہ کرام کا کھانا، ہاسٹل، علاج معالجہ بالکل مفت ہے۔ جامعہ کے ماہانہ اخراجات تعمیرات کے علاوہ 50 لاکھ روپے سے زائد ہیں جبکہ سالانہ تقریباً 6 کروڑ روپے بنتے ہیں۔
یہ تمام اخراجات اہل ثروت، مخیر حضرات کے تعاون اور صدقات جاریہ سے پورے کیے جاتے ہیں۔
ایک طالب علم پر ماہانہ اوسط خرچہ 8 ہزار تک آتا ہے۔ ایک یا چند طلباء کا خرچہ اپنے ذمہ لیں۔
ایک استاد کی کم از کم تنخواہ 25 ہزار روپے اپنے ذمہ لینا یا جامعہ کے راشن میں تعاون کرنا۔
جامعہ کے زیرِ انتظام فلاحی میڈیکل سنٹر میں ادویات کی فراہمی میں تعاون کرنا۔
جامعہ کا مطبخ اور معلم کرایہ کی عمارت میں ہے۔ زمین خریدنے کی مالیت ساڑھے تین کروڑ روپے ہے۔
فیز 1 مکمل ہوچکا ہے۔ اب 4 منزلہ عمارت (دارالقرآن فیز 2) کی تعمیر میں تعاون، جس کا ٹوٹل خرچ ساڑھے نو کروڑ ہے۔
دینی علوم حاصل کرنے والے طلباء بہترین مصرف ہیں۔ زکوٰۃ دے کر دینی علوم کی حفاظت و ترویج میں شریک ہوں۔
حسب استطاعت اپنے صدقات، عطیات، زکوٰۃ اور صدقہ فطر کے ذریعے تعاون فرما کر دونوں جہانوں کی کامیابی حاصل کریں
بنام جامعہ دارالہدیٰ اسلام آباد
Blue Area, Islamabad
بنام جامعہ دارالہدیٰ اسلام آباد
Blue Area, Islamabad
بنام مفتی عبدالسلام مدیر جامعہ
G-11 Markaz, Islamabad